ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / یوگی سرکار پولس کے بھگوا کرن میں جُٹی۔ اپوزیشن کا الزام، حکومت ان آفیسروں کو چن رہی ہے جو ان کی سوچ کے حامل ہیں

یوگی سرکار پولس کے بھگوا کرن میں جُٹی۔ اپوزیشن کا الزام، حکومت ان آفیسروں کو چن رہی ہے جو ان کی سوچ کے حامل ہیں

Sun, 04 Feb 2018 12:57:36    S.O. News Service

لکھنو،3؍فروری(ایس او نیوز) اترپردیش کی حکومت نے ریاست میں کئی آئی پی ایس افسروں کا تبادلہ کیا ہے، ان تبادلوں کے بعد کئی ہنگامے کھڑے ہوگئے ہیں۔ اپوزیشن حکومت پر الزام لگا رہی ہے کہ وہ اب پولس فورس کا بھی بھگوا کرن کرنے میں لگی ہوئی ہے۔ اس ہنگامے کی اہم وجہ 1992 بیچ کے یوپی کیدر کے آفیسر داوا شیرپا ہیں۔ وہ اے ڈی جی  پولس کے طور پر جلد ہی عہدہ سنبھالیں گے۔ گورکھپور میں وزیرا علیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کا شہر بھی ہے۔ ہنگامہ کا سب سے بڑا مدعا شیرپا کی سابقہ کارکردگی ہے۔ گزشتہ چار سالوں سے وہ دوران سروس غیرحاضر رہے ہیں۔ سرکاری ریکارڈ کے مطابق شیرپا 2008 سے 2012 تک ڈیوٹی سے غیر حاضر تھے۔ انہوں نے رضاکارانہ ریٹائرڈمنٹ اسکیم (وی آر ایس) کے لیے درخواست دائر کیا تھا اور وہ سیتا پور میں اپنی کمانڈینٹ،2بٹالین پی اے سی کی پوسٹنگ کے دوران طویل چھٹی پر تھے۔ حالانکہ  ریاستی وزارت داخلہ نے شیرپا کی درخواست کو قبول نہیں کیا کیو ںکہ شیرپا نے نے وی آر ایس کے لیے اہل ہونے کی شرط بیس سال کی سروس پوری نہیں کی تھی۔ اپنے سروس سے غیر حاضر ہوکر وہ اپنے گھر دارجلنگ چلے گئے اور گورکھا لینڈ کی سیاست کے ایک مشہور چہرے کے طو رپر ابھرے، بعد میں انہوں نے بی جے پی جوائن کرلی اور پارٹی کے ریاستی جنرل سکریٹری بن گئے۔ مبینہ طور سے شیرپا دارجلنگ سے 2009 لوک سبھا چنائو لڑنا چاہتے تھے لیکن بی جے پی نے جسونت سنگھ کو ٹکٹ دے دیا اس کے بعد انہوں نے پارٹی سے استعفیٰ دے دیا اور اکھل بھارتیہ گورکھا لیگ میں شامل ہوگئے۔ انہیں ڈیموکریٹک فرنٹ میں کورآڈی نیٹر کا عہدہ ملا اس فرنٹ میں اے بی جی ایل سمیت چھ دیگر علاقائی پارٹیاں شامل ہیں۔ راج ناتھ سنگھ کے قریبی تصور کیے جانے والے شیرپا 2012 میں اترپردیش میں پولس خدمات  میں واپس لوٹے، انہیں 2013 میں ڈپٹی انسپکٹر جنرل (ڈی آئی جی) اور بعد میں ا نسپکٹر جنرل کے عہدے پر فائز کیاگیا۔ ان کی حالیہ پوسٹنگ کرائم برانچ، سی آئی ڈی ڈیویژن میں  اے ڈی جی کے طو رپر ہوئی تھی۔ پولس خدمات اور سیاست کے بیچ کی ادلا بدلی پر اعتراض کرتے ہوئے سابق پولس سربراہ وکرم سنگھ نے انہیں کہا تھا کہ سروس کے دوران آپ ایسی چیزیں نہیں کرسکتے۔ اگر آپ کو حقیقت میں سیاست کرنی ہے تو پولس کی وردی اتاردیں اور مکمل طور پر سیاست میں چلے جائیں۔ کوئی بھی کسی کو روک نہیں رہا ہے لیکن ایک ہی وقت میں آپ آئی پی ایس افسر اور سیاست نہیں کرسکتے۔ آپ خود کو ایک مخصوص تنظیم اور ایک نظریہ کی سیاست کے ساتھ پہچان لیا ہے، اس لیے آپ کو اکھل بھارتیہ سیوا میں ہونے کا کوئی حق نہیں ہے۔ شیرپا کی پوسٹنگ پر سوال اُٹھاتے ہوئے سماج وادی پارٹی کے ترجمان سنیل سنگھ نے کہاکہ بی جے پی ان آفیسرس کو چن رہی ہے جو ان کی سوچ کے حامی ہیں۔ بی جے پی ان سرکاری افسروں کو سبھی اہم عہدوں پر جگہ دینے کی کوشش کررہی ہے جو کسی نہ کسی طرح پولس فورس میں پارٹی لائن کے ساتھ ساجھا کررہے ہیں۔ وہ اپوزیشن کی آواز کو دبانا چاہتے ہیں لیکن میں آپ کو  یقین دلاتا ہوں کہ وہ سماج وادی پارٹی کی آواز کو دبا نہیں پائیں گے۔ سماج وادی پارٹی کے علاوہ کانگریس نے بھی شیرپا کے عہدے پر اعتراض جتایا ہے، کانگریس نے مانگ کی ہے کہ شیرپا کو فوراً عہدے سے ہٹایا جائے اور اس پر جانچ کی جائے کہ آخر بی جے پی کے لیے کام کرنے کے بعد انہیں پولس فورس میں دوبارہ کیسے جوائن کرلیا۔ کانگریس ترجمان ذیشان حیدر نے کہا ہے کہ وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ بھگوا کرن ایجنڈے پر کام کررہے ہیں جو آفیسرس اس سوچ کے حامل ہیں انہیں ہی سرکار اپوزیشن کی آواز دبانے کے لیے استعمال میں لارہی ہیں۔

(بشکریہ: ممبئی اردو نیوز )


Share: